بھٹکل،29؍دسمبر(ایس او نیوز ) ریاست کرناٹک میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت کی کابینہ نے انسداد گئو کشی قانون کو آرڈیننس کے ذریعے منظور کئے جانےکو عوام مخالف قرار دیتےہوئے سوشیل ڈیموکرٹیک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی )اترکنڑا شاخ نے سخت مذمت کرتےہوئے بھٹکل تحصیلدار دفتر کے سامنے احتجاج کرتےہوئے تحصیلدار کی معرفت ریاستی گورنرکو میمورنڈم سونپا۔
احتجاجیوں سے خطاب کرتےہوئے پارٹی کے ضلعی صدر توفیق بیاری نے کہاکہ یہ ایک جمہوری ملک ہے ، یہاں ہرشہری کو اپنی پسند کے مطابق جینے کا دستوری حق حاصل ہے ، اس حق کو کوئی نہیں چھین سکتا۔ ایک طرف بی جے پی حکومت گئو کشی پر پابندی کا قانون بناتی ہے دوسری طرف یعنی گوا اور کیرالہ جیسی ریاستوں میں اس کی تجارت کی جاتی ہے۔ بی جے پی کے کئی وزراء خاص کر کیرلا میں گوشت کھاتے ہیں انہوں نے کہا کہ اس طرح کی دوغلی پالیسی نہیں چلنے دی جائے گی۔
میمورنڈم میں کہاگیا ہے کہ اس قانون کی وجہ سے کسانوں، گوشت کے بیوپاریوں ، چمڑے کے تاجروں ، معاشی طور پر کمزور افراد اور قحط سالی سے متاثرہ علاقوں میں بسنے والے افراد جیسے سماج کے تمام طبقات کی معیشت اور غذائی ضرورت پر بہت ہی برا اثر پڑ ے گا۔اور ان سب کو بہت ساری مشکلات سے گزرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ غیر ملکی سیاحوں کے لئے بھی کھانےپینے کےنظام کو متاثر کرے گا۔
میمورنڈم میں مزید کہا گیا ہے کہ اس قانون کی وجہ سے لاکھوں افراد اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔اس طرح یہ قانون یہاں کے باشندوں کو ان کے شہری اور دستوری حقوق سے محروم کرنے کا سبب بنےگا۔ اس لئے گورنر سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ سیکڑوں نئےمسائل کو جنم دینے والے ریاستی کابینہ کے اس قانون کو منظوری نہ دیتے ہوئے واپس لوٹایا جائے۔بصورت دیگر ایس ڈی پی آئی، دلت تنظیموں اور کسانوں کے ساتھ مل کر اس قانون کے خلاف سخت احتجاجی مظاہرے منعقد کرےگی۔
اس موقع پر بھٹکل تعلقہ ایس ڈی پی آئی صدر وسیم منیگار سمیت پارٹی کارکنان موجو دتھے۔